ماہِ محرم؛ حیاتِ اسلام کا ضامن اور انسانیت کی نجات کا پیغام

حوزہ/محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ صرف ایک نئے سال کا آغاز نہیں بلکہ ایمان، قربانی، وفاداری، ایثار، حریت اور حق طلبی کے ایک عظیم باب کا آغاز ہے۔ جب محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو اہلِ ایمان کے دل غمِ حسینؑ سے لبریز ہو جاتے ہیں۔ فضاؤں میں ذکرِ حسینؑ گونجنے لگتا ہے، منبر و محراب آباد ہو جاتے ہیں اور دنیا بھر میں کروڑوں عاشقانِ اہل بیتؑ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں کی یاد میں مجالس و عزاداری کا انعقاد کرتے ہیں۔

تحریر: سیده ناظمہ حسینی

حوزہ نیوز ایجنسی| محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ صرف ایک نئے سال کا آغاز نہیں بلکہ ایمان، قربانی، وفاداری، ایثار، حریت اور حق طلبی کے ایک عظیم باب کا آغاز ہے۔ جب محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو اہلِ ایمان کے دل غمِ حسینؑ سے لبریز ہو جاتے ہیں۔ فضاؤں میں ذکرِ حسینؑ گونجنے لگتا ہے، منبر و محراب آباد ہو جاتے ہیں اور دنیا بھر میں کروڑوں عاشقانِ اہل بیتؑ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں کی یاد میں مجالس و عزاداری کا انعقاد کرتے ہیں۔

محرم ہمیں صرف ایک تاریخی واقعہ یاد نہیں دلاتا بلکہ ایک زندہ مکتب، ایک ابدی درسگاہ اور ایک ایسی تحریک سے روشناس کراتا ہے جس نے انسانیت کو ظلم کے مقابلے میں قیام کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔

ماہِ محرم کی قرآنی عظمت

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ﴾

ترجمہ: "بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔"

محرم ان محترم مہینوں میں سے ایک ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی اس مہینے کا احترام کیا جاتا تھا اور اسلام نے اس کی عظمت کو برقرار رکھا۔ لیکن واقعۂ کربلا کے بعد اس مہینے کو ایک نئی روح، نئی عظمت اور نئی پہچان حاصل ہوئی۔

محرم اور اہل بیتؑ

اہل بیت علیہم السلام کے نزدیک محرم غم و اندوہ کا مہینہ ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ جب محرم کا چاند نمودار ہوتا تو حضرت امام رضا علیہ السلام کے والد گرامی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے چہرے پر غم کے آثار نمایاں ہو جاتے اور عاشور تک آپ مسلسل سوگوار رہتے تھے۔

حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:

"جب محرم آتا تو میرے والد کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا جاتا تھا اور عاشور کے دن ان کا غم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا تھا۔"

یہی وجہ ہے کہ شیعانِ اہل بیتؑ اس مہینے کو غمِ حسینؑ کے مہینے کے طور پر مناتے ہیں۔

قیامِ امام حسینؑ کا مقصد

بعض لوگ کربلا کو صرف ایک جنگ سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کربلا ایک عظیم الٰہی تحریک تھی۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کا مقصد یوں بیان فرمایا:"میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں۔"

امام حسینؑ نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے قیام نہیں کیا بلکہ دینِ اسلام کو تحریف، ظلم اور فاسد حکمرانوں کے چنگل سے بچانے کے لیے قربانی دی۔

اگر امام حسینؑ قیام نہ کرتے تو یزید کی فاسق و فاجر حکومت اسلام کے نام پر ہر باطل کام کو جائز قرار دے دیتی اور دین محمدیؐ کی حقیقی روح باقی نہ رہتی۔

کربلا؛ حق و باطل کی ابدی جنگ

کربلا دو لشکروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ دو فکر، دو راستوں اور دو نظریات کا ٹکراؤ تھا۔

ایک طرف امام حسینؑ تھے جو عدل، حق، انسانیت، عبادت، حریت اور خدا پرستی کے نمائندہ تھے۔

دوسری طرف یزید تھا جو ظلم، جبر، فساد، دنیا پرستی اور استبداد کا نمائندہ تھا۔

عاشورا کا پیغام یہ ہے کہ حق کی تعداد کم ہو تو بھی حق غالب ہے اور باطل کی تعداد زیادہ ہو تو بھی وہ شکست خوردہ ہے۔

استقبالِ محرم کی ضرورت

محرم کا استقبال دراصل اپنے دل کو غمِ حسینؑ کے لیے آمادہ کرنا اور اپنی زندگی کو حسینی رنگ میں رنگنے کا نام ہے۔

استقبالِ محرم کا مطلب یہ ہے کہ:

اپنے گھر کو ذکرِ حسینؑ سے آباد کیا جائے۔

اپنی اولاد کو کربلا سے روشناس کرایا جائے۔

مجالسِ عزا میں شرکت کی جائے۔

قرآن اور دعا سے تعلق مضبوط کیا جائے۔

گناہوں سے توبہ کی جائے۔

معاشرے میں حسینی افکار کو فروغ دیا جائے۔

عزاداری کی اہمیت

عزاداریِ امام حسینؑ صرف آنسو بہانے کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:"ہر چیز کے لیے ثواب ہے لیکن حسینؑ پر بہنے والے آنسوؤں کا ثواب بے حساب ہے۔"

عزاداری اہل بیتؑ سے محبت کا اظہار، دین کی حفاظت اور کربلا کے پیغام کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔

محرم اور خواتین

کربلا کی تحریک میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اگر حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور دیگر خواتین اسیری کے دوران حق کا پیغام نہ پہنچاتیں تو شاید کربلا کا پیغام دنیا تک نہ پہنچ پاتا۔

لہٰذا خواتین کی ذمہ داری ہے کہ:

حجاب و عفت کی حفاظت کریں۔

نسلِ نو کی تربیت کریں۔

مجالسِ عزا میں فعال کردار ادا کریں۔

حضرت زینبؑ کو اپنا نمونۂ عمل بنائیں۔

نوجوانوں کی ذمہ داری

آج کے نوجوان امام حسینؑ کے حقیقی سپاہی بن سکتے ہیں اگر:

نماز کی پابندی کریں۔

قرآن سے تعلق قائم کریں۔

سچائی اور امانت داری اختیار کریں۔

ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔

اسلامی اقدار کی حفاظت کریں۔

علم و معرفت حاصل کریں۔

حضرت علی اکبرؑ اور حضرت قاسمؑ نوجوانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔

شہدائے انقلاب اور مکتبِ حسینؑ

کربلا کا مکتب صرف سن 61 ہجری تک محدود نہیں۔ تاریخ کے ہر دور میں حسینی راستے پر چلنے والے شہداء نے اسلام کی سربلندی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

امام خمینی نے فرمایا:"جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ محرم اور صفر کی برکت سے ہے۔"

اسی مکتب نے انقلاب اسلامی کو جنم دیا اور اسی مکتب نے ہزاروں شہداء کو راہِ حق میں قربانی دینے کا جذبہ عطا کیا۔

رہبر معظم انقلاب سید علی خامنہ‌ای ہمیشہ تاکید فرماتے ہیں کہ عزاداری بصیرت، معرفت اور شعور کے ساتھ ہونی چاہیے تاکہ کربلا کا حقیقی پیغام معاشرے تک پہنچ سکے۔

محرم کا عملی پیغام

محرم ہمیں سکھاتا ہے:

حق کے لیے قربانی دینا۔

ظلم کے سامنے نہ جھکنا۔

دین کی حفاظت کرنا۔

نماز کو اہمیت دینا۔

صبر و استقامت اختیار کرنا۔

مظلوموں کا دفاع کرنا۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا۔

اختتامیہ

جب محرم کا چاند طلوع ہو تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ صرف ایک مہینے کا آغاز نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری کا آغاز ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس نے اسلام کو نئی زندگی بخشی، انسانیت کو آزادی کا درس دیا اور ظلم کے خلاف قیام کا راستہ دکھایا۔

آئیے ہم عہد کریں کہ محرم کو صرف رسم و رواج تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اس کے پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کریں گے۔ ہم اپنے کردار، اخلاق، عبادات اور معاشرت میں حسینی رنگ پیدا کریں گے اور امام حسین علیہ السلام کے مشن کے سچے پیروکار بننے کی کوشش کریں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha